Saturday, February 7, 2015

ڈرا ڈرا سا واویلہ


کل JIT کی بلدیہ ٹاون سانحہ پر رپورٹ کے متعلق میڈیا پر خبریں سنی ، بتایا جا رہا ہے کہ اس میں لکھا ہے کہ یہ حادثہ نہیں تھا بلکہ ایک سیاسی جماعت کا فیکٹری مالکان کی طرف سے بھتہ دینے سے انکارکرنے  پر ایک رد عمل تھا....

یہ خبر اس قدر لرزہ خیز تھی کے میرے ہٹے کٹے، جوانمرد اور بے باک میڈیا کے اعصاب کو اس قدر متاثر کر گئی کہ کل سے نہ کچھ سن پا رہا ہے اور نہ ہی کچھ بول ... 

بہت سے حربے آ زما ۓ جا رہے ہیں لیکن فرق ہے کے پڑنے کا نام ہی نہیں لے رہا .. کہا جاتا ہے کہ میڈیا عوام کے احساسات کی ترجمانی کرتا ہے اور ووہی تو کر رہا ہے کیا رابطہ کمیٹی کے اراکین عوام نہیں کیا وو حیوان ہیں ، بھیڑیے ہیں ؟ کیا کراچی کے بےشمار سیکٹروں میں رہنے والے چھوٹے موٹے دھاتی کھلونوں سے کھیلنے والے ، کچھ گیلن کیمیکل تک رسائی رکھنے والے کارکن پتھر کے بت ہیں ؟ انسان بھی ہیں اوپر سے پاکستانی بھی ہیں تو عوام ہی ہوۓ نہ ..

ہمارے میڈیا میں بڑے بڑے برانڈ ہیں جیسے GEO, EXPRESS, DUNYA, DAWN, ARY, AAJ, SAMAA, اور نہ جانے کتنے .. ان سب کے آگے مزید برانڈ ہیں مثلا کپیٹل ٹاک ، بیباک، کھرا سچ ، جرگہ وغیرہ وغیرہ اور ان سب کا ایک ہی دعویٰ  ہے کے ہم سچ کو دھول مٹی، نقاب اور ہر ممکنہ چھپنے والی جگہ سے ڈھونڈ نکالنا جانتے ہیں .. اور بے شک جانتے ہیں بس کبھی کبھی کچھ مصلحتیں آڑے آ جاتی ہیں

 ایک دفعہ ایک شادی پر جانے کا اتفاق ہوا، شادی گاؤں کی تھی اور برات بیٹھی ہوئی تھی اور حسب روایت بھانڈ وارد ہوۓ اور اپنا جگتوں والا پروگرام شروع کیا، جس فیملی میں شادی تھی ان کادرجن بھر بسوں کا  ٹرانسپورٹ کا کام تھا اور اور کبھی کبھار کوئی نہ کوئی حادثہ بھی ہو جاتا تھا لیکن ایک تازہ تازہ حادثہ ایسا بھی ہوا جس میں کچھ لوگ جان سے ہاتھ دھو بیٹھے..

  اب ایک بھانڈ دوسرے سے کہتا ہے کہ میں بہشت وچ گیا تے کی ویناں واں  کہ عزرائیل بیہ  کے حقے دے سوٹے ماردا سی پیا  

پہلا بھانڈ، فیر کی ہویا .... دوسرا بھانڈ : میں پچھیا توں ایتھے بییٹھا ں  ایں کم کیوں نیئں کردا ...عزرائیل بولیا میں اجکل اپنے کم دا ٹھیکہ دنیا تے چودھریاں دیاں بساں نوں دے دیتا اے تے ہن او ایس کم دے پورے کاریگر ہو گیے نیں تے میرے توں وی ودھیا کم کردے نے ...

کراچی کے حالات دیکھ کر لگتا ہے کے شائد پھر عزرائیل نے ٹھیکہ دے دیا ہے اور میڈیا کو اس ٹھیکے پر قطعاً کوئی اعتراض نہیں  اور اس کے ساتھ میڈیا اس بات پربھی کامل یقین رکھتا ہے کہ خدائی کاموں میں مداخلت کیسی؟...

 ویسے ایک بات پر مجھے حیرانگی اپنے آپ (عوام) پربھی ہوتی ہے کہ ہم بلدیہ ٹاؤن کو لے کر سوشل میڈیا پر اتنا شور کیوں مچا رہے ہیں .. آخر ہو کیا گیا ہے؟ یہی نہ کہ جو کام ٹھیکدار نے دس دس کر کے چھبیس دنوں میں کرنا تھا وو اس بیچارے نے ایک دن میں کر دیا تو ہمیں بھی جوش آگیا ...اگر یہی کام وہ مہینے بھر میں کرتا تو ہم سمجھتے کہ انسانیت ابھی مری نہیں ہم میں... 

 باقی وزیر اعظم، وزیراعلی ، اپوزیشن لیڈر، سیاسی جماعتوں کے سربراہان، انقلاب کے داعی اورنئیے پاکستان کے دعویداروں کو ان واقعات سے کیا لینا دینا اور وہ بھی تب جب سینٹ الیکشن سر پر ہوں ...

No comments:

Post a Comment