کل JIT
کی بلدیہ ٹاون سانحہ پر رپورٹ کے متعلق میڈیا پر خبریں سنی ، بتایا جا رہا ہے
کہ اس میں لکھا ہے کہ یہ حادثہ نہیں تھا بلکہ ایک سیاسی جماعت کا فیکٹری
مالکان کی طرف سے بھتہ دینے سے انکارکرنے پر ایک رد عمل
تھا....
یہ خبر اس قدر لرزہ
خیز تھی کے میرے ہٹے کٹے، جوانمرد اور بے باک میڈیا کے اعصاب کو اس قدر متاثر
کر گئی کہ کل سے نہ کچھ سن پا رہا ہے اور نہ ہی کچھ بول ...
بہت سے حربے آ زما ۓ
جا رہے ہیں لیکن فرق ہے کے پڑنے کا نام ہی نہیں لے رہا .. کہا جاتا ہے کہ
میڈیا عوام کے احساسات کی ترجمانی کرتا ہے اور ووہی تو کر رہا ہے کیا رابطہ کمیٹی
کے اراکین عوام نہیں کیا وو حیوان ہیں ، بھیڑیے ہیں ؟ کیا کراچی کے بےشمار سیکٹروں
میں رہنے والے چھوٹے موٹے دھاتی کھلونوں سے کھیلنے والے ، کچھ گیلن کیمیکل تک
رسائی رکھنے والے کارکن پتھر کے بت ہیں ؟ انسان بھی ہیں اوپر سے پاکستانی بھی
ہیں تو عوام ہی ہوۓ نہ ..
ہمارے میڈیا میں بڑے
بڑے برانڈ ہیں جیسے GEO, EXPRESS, DUNYA, DAWN, ARY, AAJ, SAMAA,
اور نہ جانے کتنے .. ان سب کے آگے مزید برانڈ ہیں مثلا کپیٹل ٹاک ، بیباک، کھرا
سچ ، جرگہ وغیرہ وغیرہ اور ان سب کا ایک ہی دعویٰ ہے کے ہم سچ کو
دھول مٹی، نقاب اور ہر ممکنہ چھپنے والی جگہ سے ڈھونڈ نکالنا جانتے ہیں .. اور بے
شک جانتے ہیں بس کبھی کبھی کچھ مصلحتیں آڑے آ جاتی ہیں
اب ایک
بھانڈ دوسرے سے کہتا ہے کہ میں بہشت وچ گیا تے کی ویناں واں کہ عزرائیل
بیہ کے حقے دے سوٹے ماردا سی پیا
پہلا بھانڈ، فیر کی
ہویا .... دوسرا بھانڈ : میں پچھیا توں ایتھے بییٹھا ں ایں کم کیوں نیئں
کردا ...عزرائیل بولیا میں اجکل اپنے کم دا ٹھیکہ دنیا تے چودھریاں دیاں بساں نوں
دے دیتا اے تے ہن او ایس کم دے پورے کاریگر ہو گیے نیں تے میرے توں وی ودھیا
کم کردے نے ...
کراچی کے حالات دیکھ
کر لگتا ہے کے شائد پھر عزرائیل نے ٹھیکہ دے دیا ہے اور میڈیا کو اس ٹھیکے پر
قطعاً کوئی اعتراض نہیں اور اس کے ساتھ میڈیا اس بات پربھی کامل یقین
رکھتا ہے کہ خدائی کاموں میں مداخلت کیسی؟...
No comments:
Post a Comment