Thursday, November 13, 2014

پٹھورے

 پٹھورے  
ہمارے ہاں مختلف شہروں کے رہنے والے لوگوں کا مزاج بھی مختلف ہوتا ہے ، جیسے کراچی میں بسنے والے لاہوریوں سے بہت مختلف ہیں ، اسی طرح فیصل آباد اور پشاور کے مکینوں کے مزاج میں بھی نمایاں فرق ہے ، کوئٹہ اور  حیدرآباد کے لوگ بھی اپنے فرق کی وجہ سے آسانی سے پہچانے جا سکتے ہیں لیکن اسلام آباد کے کے لوگوں کے مزاج کے بارے میں حتمی رائے قائم نہیں کی جا سکتی کیونکہ ایک تو یہ ایک قدرے نیا شہر ہے اور دوسرا اس میں تقریباً پاکستان کے 
  ہر علاقے سے تعلق رکھنے والے لوگ بستے ہیں جس میں گلگت بلتستان سے لے کر کراچی تک ہر چھوٹے بڑے  شہرکے لوگ شامل ہیں 

بالکل اسس طرح اگر ہم اپنے ملک کی چند نامور سیاسی جماعتوں کے کارکنوں اور ووٹرز کا ذکر کریں تومعلوم ہوتا ہے کہ ان جماعتوں کے کارکن اور ووٹر مزاج اورپارٹی کے ساتھ وفاداری کے حوالے سے قدرے مختلف ہیں، مثلا ً  پیپلز پارٹی کے جیالے اپنی پارٹی کے ساتھ ایک مضبوط رشتے میں جڑے ہوۓ ہیں ہر اچھے برے وقت میں پارٹی کے ساتھ اپنی وفاداری کو نبھانا اچھی طرح جانتے ہیں اور  اسی وجہ سے جیالے کہلاتے ہیں ، اسی طرح جماعت اسلامی کے کارکنوں کا ایک علیحدہ مزاج ہے جو اپنی جماعت   کے قائدین کی بجاۓ نظریے کو مقدم سمجھتے ہیں اور مسلم لیگ نوازکے کارکن  اس کے بالکل برعکس  جماعت کے نظریے کی  بجا ۓ اپنے قائدین کو فالو کرتے ہیں اورتقریباً  یہی حال تحریک انصاف اور ایم کیو ایم کا ہے  
جس طرح ہم پیپلز پارٹی کے کارکنوں کو جیالا کہتے ہیں اسی طرح نواز لیگ کے کارکن لیگی کہلاتے، جماعت اسلامی کے کارکنوں کو جماتیا کہا جاتا ہے بالکل اسی طرح ایم کیو ایم اپنے لوگوں کو کارکن کہلوانا پسند کرتے ہیں

گو کہ ابھی تک ہماری نئی نویلی تحریک انصاف کے کارکن کوئی مستقل نام یا پہچان حاصل نہیں کر پاۓ لیکن خان صاحب نے فی ا لحال احتیاطاً ان کو ٹائیگر کہنا شروع کر دیا ہے حالانکہ اس نام کی کارکنوں سے دور دور تک کوئی مماثلت نہیں کیونکہ ابھی کچھ دن پہلے سب سے بڑے ٹائیگر کو آنسو گیس سے ڈرتے ہوۓ اپنے کنٹینر نما پنجرے میں دبکے ہوۓ دیکھا گیا ہے، چلیں مان لیا نام ٹائیگر ہے

عرف عام میں جیالوں کو غلام ، ایم کیو ایم کارکنوں کو مافیا ، جماعت اسلامی والوں کو مولوی اور لیگیوں کو پٹواری کہا جاتا ہے

اب آپ سوچ رہے ہونگے کہ میں نے تحریک انصاف والوں کو چاروناچار ٹائیگر مان لیا  ہے لیکن عرف عام میں ان کو کیا کہا جاتا ہے ؟

 شروع شروع میں جب پی ٹی آئ صرف چند لوگوں تک محدود ہوتی تھی تو لوگ اس کے کارکنوں کو برگر کہتے تھے کیونکہ عموما ً اس میں شامل لوگ وضح  قطع سے ممی ڈیڈی اور برائلر مرغیوں جیسے ہوتے تھے ، یقیناً آپ سب نہیں وہ آبپارہ والے احتجاج میں ایک اسی قسم کے نوجوان کی ویڈیو ضرور دیکھی ہوگی جو فرما رہا تھا کہ "اگر پولیس ہمیں مارے گی تو ہم انقلاب کیسے لے کر آیئں گے؟" 

  لیکن جب سے شیخ رشید ، شاہ محمود قریشی ، عامر ڈوگراور عبدالعلیم خان جیسے لوگ اس جماعت میں گھسسے ہیں تب سے  اس کے برگر والے امیج کو شدید خطرات لاحق ہو گۓ ہیں کیونکہ شیخ رشید، عامر ڈوگر اور اسی نوح کے کئی اور چہرے کسی بھی زاوئیے سے ممی ڈیڈی نہیں لگتے

اب کیونکہ اس میں بھی اسلام آباد کی طرح ہرپارٹی اور ہر قماش کے لوگ پاۓ جاتے  ہیں اس لیے اس کا مزاج واضح نہیں ہے

مہربانی فرما کر ذھن پر زور مت دیجئیے گا کہ میں نے اس بلاگ کا عنوان "پٹھورے" کیوں رکھا ہے 




زرمبادلہ

زرمبادلہ 

کافی دنوں سے عمران خان کی ایک ہی تقریر سن سن کر کان پک تو کب کے چکے ہیں اب تو با قاعدہ اپنی بنیادی ذمہ داری سے ہٹ کر بولنا (قابل اعتراض زبان ) بھی شروع کر دیا ہے ..
میرے بہت سے دوست (بشمول فیس بک ) ابھی تک امید سے ہیں (بشمول مرد حضرات) کہ عمران خان تبدیلی لے کر ضرور آئے گا چاہے کیسے بھی ہو اوران سب کی امیدوں کا مرکزی نقطہ خان کی determination یا قوت ارادی کو قرار دیا جاتا ہے حالانکہ قوت ارادی اگر شیخ رشید جیسے "پیشہ ورسیاستدان" کے ساتھ جڑے رہنے(یہاں جڑے رہنے سے مراد جسمانی نہیں بلکہ نظریاتی ہے) کی ہو تو یقین مانئیے سیا سی ذلت کو آپ کے قدم چومنے سے کوئی نہیں روک سکتا (ویسے یہ ذلالت جناب کے ٹخنے کب کے چوم چکی ہے) اور سمجھ لیجئے کے قدم چومنے سے پہلے ایک آخری موقع دینا چاہتی ہے ( جو قادری صاحب نے فورا سمیٹ لیا تھا ) لیکن خان صاحب کو اوپر بیان کردہ "قوت ارادی" فی الحا ل روکے ہوۓ ہے ..
چلئے مان لیا کہ خان صاحب نے کامیابی سے ہسپتال ، یونیورسٹی اور ایک آدھ کام (یہاں کام سے مرد ڈالنے والا کام ہرگز نہیں) سر انجام دیا ہے اورآگے بھی ان سے یہ توقع ہے کہ ایسا کوئی کارنامہ سر زد ہو جاۓ لیکن نیا پاکستان ان کے ہاتھوں بن جاۓ کم از کم وہ پاکستان جس کی آس میرے دوست لگاتے بیٹھے ہیں وہ بھی شاہ محمود قریشی ، خورشید قصوری ، شیخ رشید اور اعظم سواتی جیسے مستریوں کی ٹیم کے ساتھ تو میں اپنے دوستوں سے پیشگی معذرت کرتے ہوۓ کہوں گا کہ "اے تسی بھل ای جاؤ" اور یقین جانئیے اس "بھل جان" میں بڑی عافیت پنہاں ہے ....
آج کل عزیزم شیخ رشید صاحب خان صاحب کو ان کی ان انسانی خوبیوں (اور قائدانہ بھی ) سے روشناس کروا رہے ہیں جن کے بارے میں خان صاحب بیچارے باسٹھ سال اور چند مہینوں سے خود بھی بےخبر تھے اور ان میں سے زیادہ تر خوبیوں کا تعلق اوپر بیان کردہ "قوت ارادی" سے ہی ہے گو کہ چند ایک قابل یقین بھی ہیں لیکن اگر ہم ان خوبیوں پر نہ چاہتے ہوۓ بھی یقین کر لیں تو میرا خیال ہے کہ "نیا پاکستان" ایک معمولی سا ثمر ہوگا تو اس سے بہتر ہے کہ ہم اپنی یہ ٹیم برآمد کر کے ایک تو نیا ایشیا یا نیئی دنیا بنا لیں اور دوسرا کچھ ٹکے زرمبادلہ کے نام پربھی کما لیں....

اگلی عید سے پہلے نیا پاکستان



اگلی عید سے پہلے نیا پاکستان 
خان صاحب کا تازہ بیان(یہاں تازہ سے مراد پرانے بیان کا نیا ورژن ہے ) کہ اگلی عید سے پہلے نیا پاکستان ضرور بن جاۓ گا ...
ماننا پڑے گا کے خان نیں تھوڑی بہت سیاست سیکھ لی ہے (چھوٹی یا بڑی عید کا ذکر کئیے بغیر) عید کا که کے آرام سے دو ڈھائی ماہ کا مارجن سمیٹ لیا ہے ..
چوری چھپے یہ مارجن ہتھیانا اصل میں خان صاحب کے اندر کی غیر یقینی صورتحال کو بہت حد تک واضع کر گیا ہے ورنہ قمری سال کا سہارا لیے بغیر شمسی کلینڈر کی تاریخ دی جا سکتی تھی .چلیں اگر ہم اگلی بڑی عید بھی سمجھ لیں تو خان صاحب اینڈ کمپنی کے پاس یہ معجزو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے تقریباً سوا تین سو دن ہیں (ویسے اتنے دنوں میں تو خان صاحب کے روحانی پیشوا اپنی ہاؤسنگ اتھارٹی کا نیا سیکٹر نہیں بنا سکتے وو بھی سارے وسائل ہونے کے باوجود)  لیکن ہو سکتا ہے خان صاحب کے اندر کوئی زبردست قسم کا پروجیکٹ مینیجر انگڑایاں لے رہا ہو ...
اب میری ناقص سمجھ کے مطابق خان صاحب کے لیے دو سب سے بڑے سنگ میل میں سے ایک تو مرکز اور چاروں صوبوں میں بلا شرکت غیرے اپنی حکومت قائم کرنا اور دوسرا ایک ایسی طلسماتی ٹیم کا بندوبست کرنا جو باقی ماندہ دنوں میں نیا پاکستان تعمیر کرکے (بمہ رنگ روغن کھڑکیاں دروازے) چابی پاکستانیوں کے حوالے کر کے خود عید کی نماز (بمہ خطبہ) سکون کے ساتھ ادا کر سکے ..
مجھے اپنے تمام احباب جو خان صاحب کو فالو کرتے ہیں ان سے ہمدردی میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے اور اس کی وجہ ہے کہ ایک تو عید سے پہلے نیا پاکستان ایک ٹرک کی بتی سے زیادہ کچھ نہیں دوسرا یہ کہ اگر واقعی ایسا ممکن ہوتا تو خیرپختونخوا گزشتہ پانچ سو دس دنوں میں نیا نہ سہی کم از کم مرمت ضرور ہو چکا ہوتا ...حضور والا آپ پاکستان کے سیاسی افق پر ایک خوشگوار اضافے سے ایک بدنما داغ بنتے جا رہے ہیں اور پلیز "داغ تو اچھے ہوتے ہیں" کے چکر میں نہ پڑئیے گا کیونکہ بچوں کے کپڑوں میں اور سیاست میں کم از کم اتنا فرق تو ضرور ہوتا ہے جتنا بچوں میں اور سیاستدانوں میں ہوتا ہے .....

آدھی سیٹیں

آدھی سیٹیں 
الیکشن سے پہلے نواز شریف نہیں آدھی سیٹوں کی پیشکش کی تھی - عمران خان 

لو جی یہ کسر باقی تھی - خان صاحب آپ ایک ہی دفعہ سب کچھ بول کیوں نہیں دیتے جو جو کچھ آپ کو نواز شریف نے کہا تھا - ہر روز ایک سانتا بانتا والا مزاحیہ شاک مار مار کر آپ نے لکھنے، پڑھنے اور سننے والوں کو عجیب و غریب جہد مزاح سے روشناس کروایا ہے- مزاح کی اس قسم کو عرف عام میں اذیت ناک مزاح بھی کہا جاتا ہے جس میں قاری، سامع یا ناظر کے ہاں ایک خواہش جنم لیتی ہے جس کو پنجابی میں "کدی توں میرے سامنے ہوندا نہ" کہتے ہیں .

آپ کے تمام چاہنے والے (یہاں چاہنے والوں سے مراد اقتدار میں حصہ ہے) افسوس کر رہے ہونگے کہ آپ نیں یہ حرکت دوسری دفعہ سرزد فرمائی ہے ایک جب ایک انٹرویو میں جنرل مشرف نے انکشاف کیا تھا کہ خان صاحب ١٠٠ سیٹیں مانگ رہے تھے لیکن میں ١٠ سیٹیں دینے پر راضی تھا اور اب دوسری دفعہ میاں صاحب نہیں تو حد ہی کر دی ڈائریکٹ 171 سیٹوں کی پیشکش کر ماری تو یقیناً آپ 342 مانگ رہے ہوں گے (یہاں مجھے مجبوراً 342 لکھنا پر رہا ہے کیونکہ یہ لمٹ ہے)

یہاں میاں صاحب کی معصومیت پر افسوس نہ کرنا زیادتی ہوگی کہ ان کو خیال ہی نہیں آیا کہ اگر سیٹیں آدھی آدھی ہو گیئں تو حکومت بنانے کی دعوت کس کو ملے گی؟ (مہربانی فرما کر یہاں آپ کو فرض کرنا پڑے گا کہ باقی ساری پارٹیوں نے یا تو بائیکاٹ کیا ہوگا یا الیکشن لڑنے کوخان صاحب کا اور میاں صاحب کا ذاتی/گھریلو معاملہ سمجھ کر اخلاقی ذمداری کی چھوٹی سی مثال قائم کی ہوگی)-
چلیں اس بات کو چھوڑ دیتے ہیں پر اتنا تو بتا دیں کہ سیٹیں آدھی آدھی ہونے کے بعد ہر ضمنی الیکشن کے بعد (جو کہ عموماً سال بھر میں 3/4 ہو ہی جاتے ہیں) ایک نئی حکومت بناتے کیا؟  

آپ کے پچھلے چند دنوں کے خصوصاً اور ویسے عموماً بیانات پڑھ کر ایسا لگتا ہے کے آپ کی پارٹی کو ایک نہایت زیرک ڈیمیج کنٹرول ٹیم کی اشد ضرورت ہے جو آپ کے فرمودات یا دانش کے موتیوں کو بعد ہر فورم پر "اصل میں عزت مآب چیئرمین صاحب کا مطلب ہر گز یہ نہیں تھا " کثرت سے کرتی یا کہتی پھرے -

ویسے آپس دی گل اے خان صاحب "سودا ماڑا نیئں سی" .....  

Tuesday, November 11, 2014

مقصد

اجی سنتے ہو ؟  
 !ارے اب بھی کوئی شک ہے؟ ستائیس سال ہوگۓ  ہیں شادی کو 
!آپ بھی نہ ہر بات کو مذاق میں ٹال دیتے ہیں 
- بیگم خدا کو مانو ستائیس ورے کوئی مذاق نہیں ہوتا، سچ پوچھو توکبھی کبھی اپنے صبر کی مثال دینے کو دل کرتا ہے 
  پر تمہیں تو پتا ہے کہ اپنی مثال خود دینے سےلوگوں کی توجہ مثال کی بجاۓ میری خود خودنمائی کی خواہش پر مرکوز ہو جاتی ہے 
ہاۓ الله ! آپ ٹھیک تو ہیں نہ ؟ آج آپ کس طرح کی گہری گہری باتیں کر رہے ہیں ؟ 
   ہاں میں چنگا بھلا ہوں بس سوچتا ہوں کہ کوئی طریقہ ہونا چاہئے معاشرے میں ہر انسان کو ٹھیک ٹھیک ناپنے کا اور ہاں 
اس کی ساری خوبیوں کو خواہ وہ ذہنی ہوں یا جسمانی
اچھا میرے پلے کچھ نہیں پڑ رہا آپ کیا کہ رہے ہیں ، وہ میں نے آپ کو کہا تھا نہ کہ عمیرہ کے ہاں جانا ہے تو آج چھٹی ہے تو چلیں کیا ؟ 
ارے بھئی، دیکھو جب انسان دنیا میں آتا ہے تو اسکو زمین پر بھیجنے کا ایک مقصد ہوتا ہے اور اس مقصد کے حصول کے لیے اس کو خدا ہر وہ وسیلہ مہیا کرتا ہے جس کی اس مقصد کے حصول کے لیے ضرورت ہوتی ہے 
ہاں ، ویسے کونسا آپ نے آج تک میری بات مانی ہے جو آج مانیں گے ؟ کتنے دنوں سے کہ رہی ہوں کہ جانا ہے
اب دنیا میں آنے کے بعد سب سے پہلا مقصد اس مقصد کو تلاش کرنا ہی ہوا نہ ؟ دوسرا مقصد اپنے آپ ماپنا کہ میں کیا ہوں اور کتنا ہو ؟ 
 اچھا وہ درزی سے میرا سوٹ ہی لے آیئں جو میں نے سائرہ کی شادی کے لیے بنوایا ہے
دیکھو ، جس دن یہ معلوم پڑ جاۓ کہ مقصد کیا ہے اور میں کیا ہوں تو یقین مانو زندگی شروع ہی اسی دن ہوتی ہے چاہے وہ دن بھڑھاپے میں ہی کیوں نہ آ ۓ 
!آپ کو کہا تھا کہ ذہنی تناؤ والی دوا لینا مت چھوڑیں پر آپ کو کوئی اثر ہی نہیں ، یہ سب اسی کا نتیجہ ہے
اچھا میں نے مشاہدہ کیا ہے کہ اگر کسی کو اس کا مقصد معلوم ہو جاۓ تو وسائل اس کے پیچھے پیچھے بھاگتے ہیں یعنی مقصد کا معلوم ہونا ہی اصل مشکل مرحلہ ہے انسان کے لیے
ہاۓ خدایا یہ بجلی نجانے کب آۓ گی ، کتنے کام رہتے ہیں کرنے والے اور اوپر سے آپ کی بے مقصد باتیں 
ارے یوں بھی تو ہو سکتا ہے کہ انسان اپنے آپ کو پہلے تول لے کہ وہ کیا ہے اور کتنا ہے پھر اس کے حساب سے مقصد کی تلاش کرے ، بلکل ویسے جیسے اپنے آپ کو پڑھنے کے بارے میں بھلے شاہ نے کہا "کدی اپنے آپ نوں پڑھیا ای نیئں" والی بات اوراس صورت میں اپنے آپ کو تولنا یا پڑھنا ہی اصل مشکل مرحلہ ہے، پھر ایک سے بڑھ کر ایک مقصد آپ کے 
!سامنے آئے گا
دیکھئے نہ چار بج گۓ ہیں اور .... باہر تو دیکھئے کون دروازہ کھٹکھٹا رہا  ہے؟
ویسے بیگم ، یہ بات تمہیں سمجھانا بھی تو ایک مقصد ہو سکتا ہے ، لیکن سوچنے والی بات یہ ہے کہ مجھے اپنے آپ کو تولنا پڑے گا کہ آیا میں یہ مقصد حاصل کر سکتا ہوں بھی یا نہیں؟ 
 پہلے تو یہ دوا لیجئے اوردوسرا اگر ستائیس سال میں آپ اس مقصد کے لیے اپنے آپ کو نہیں تول سکے توپھر آپ کوئی اور  اچھا سا مقصد ڈونڈھ لیجئے







   

Saturday, November 8, 2014

تاریخ مریخ اور چیخ .

تاریخ مریخ اور چیخ .

یہ کوئی سنہُ 0000 (AD) کی بات ہے (یہاں AD سے مراد آفٹر دھرنا ہے ) ہمارے ہردل عزیز اور تقریباً گالم گلوچ اور بازاری لہجے میں تجزیہ کرنے والے بے مثال دانشور جناب حسن نثار اپنے ہر تجزیے میں اس بات کا ذکر کرنا نہیں بھولتے تھے کہ اگر موجودہ حکومت پانچ سال پورے کر گئی تومہنگائی اس قدر بڑھ جاۓ گی کہ عوام کی چیخ مریخ تک سنائی دے گی اور تاریخ گواہ ہے کہ ان شریفوں نے کبھی عوام کا بھلا نہیں سوچا -- 
 
گزشتہ دن جب فیول کی قیمتوں میں تاریخی کمی دیکھنے کو آئی تو ماہرین کا خیال ہے کہ اس کمی سے باقی روز مرہ کی اشیاۓ ضروریات میں نمایاں کمی دیکھنے کو ملے گی یعنی مہنگائی بڑھنے اور ایک جگہ رکنے کی بجاۓ الٹا کم ہوگئی- اب تازہ ترین اطلاعات کے مطابق مریخ کے چند کھسیانے قسم کے لونڈوں نے حسن نثار کے ماموں زاد بھائی کی قیادت میں ایک دھرنے کا اہتمام کیا ہے جس کا سر فہرست مطالبہ یہ ہے کہ چونکہ ہمیں چیخوں کی بجانے قہقہوں کی آوازیں آ رہی ہیں جن کا ہمارے کان نما اعضا پر انتہائی مضر صحت اثر پڑ رہا ہے اس لیے ہمیں زمینی وزیر اعظم کی ہیلتھ انشورنس سکیم کا مفتا مفت ممبر بنایا جاتے ....

یہ کوئی نئی بات نہیں، مذکورہ نثارصاحب اکثر و بیشتر اسی قسم کی سلف میڈ بونگیوں کی وجہ سے اپنے تمام بیرونی سیاروں پر مقیم چچا زاد ، خالہ زاد ، پھوپھی زاد اور کئی اور قسم کے زاد بھائیوں کے عتاب اور سنگین احتجاج کا نشانہ بن چکے ہیں - اور اس میں ان دنوں کی بات بھی شامل ہے جب مذکورہ نثار صاحب کراچی کی ایک مشہور و معروف جماعت کے پےرول پر ہوتے تھے اور ان کی شان میں ایسے ایسے قصیدے پڑھا اور لکھا کرتے تھے کہ ان کے کچھ کزنز کو باقاعدہ زمین پر آکر ان کو ہمارے عزیزی صاحب والا پانجا لگانا پڑا . اب آپ کہیں گے کہ اگر ان کو پانجا لگ چکا ہے تو کوئی فرق کیوں نہیں پڑا ؟ تو جناب اس میں مذکورہ نثار صاحب کی ڈھٹائی کے ساتھ ساتھ پاںجے کا بھی قصور ہے کیوں کہ محترم عزیزی صاحب کا پانجا SHO صاحب کے پانجے سے کافی نرم دل ثابت ہوا ہے----
مذکورہ نثار صاحب کی جن دیگر سیلف  میڈ بونگیوں کا ذکر میں اوپر کر چکا ہوں ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ موجودہ حکومت سے اچھائی کی توقع کرنا ایسا ہی ہے جیسے الماس بوبی سے جڑواں بچوں کی امید رکھنا . آپ خود اندازہ لگا سکتے ہیں کہ جناب نے مذکورہ بونگی حکومت بننے کے چند ماہ بعد ہی مارنا شروع کر دی تھی- یعنی مذکورہ نثار لوگوں کو باآ ورکروانا چاہ رہے تھے کے ترقی ایک بٹن ہے جس کو دبانے سے ہم تیسری دنیا سے پہلی دنیا میں تشریف لے جائیں گے یا مزید سادہ الفاظ میں مذکورہ نثار صاحب عوام کو یقین دلوا رہے تھے کہ نو خواتین مل کر ایک مہینے میں بچہ پیدا کر سکتی ہیں .