Thursday, November 13, 2014

زرمبادلہ

زرمبادلہ 

کافی دنوں سے عمران خان کی ایک ہی تقریر سن سن کر کان پک تو کب کے چکے ہیں اب تو با قاعدہ اپنی بنیادی ذمہ داری سے ہٹ کر بولنا (قابل اعتراض زبان ) بھی شروع کر دیا ہے ..
میرے بہت سے دوست (بشمول فیس بک ) ابھی تک امید سے ہیں (بشمول مرد حضرات) کہ عمران خان تبدیلی لے کر ضرور آئے گا چاہے کیسے بھی ہو اوران سب کی امیدوں کا مرکزی نقطہ خان کی determination یا قوت ارادی کو قرار دیا جاتا ہے حالانکہ قوت ارادی اگر شیخ رشید جیسے "پیشہ ورسیاستدان" کے ساتھ جڑے رہنے(یہاں جڑے رہنے سے مراد جسمانی نہیں بلکہ نظریاتی ہے) کی ہو تو یقین مانئیے سیا سی ذلت کو آپ کے قدم چومنے سے کوئی نہیں روک سکتا (ویسے یہ ذلالت جناب کے ٹخنے کب کے چوم چکی ہے) اور سمجھ لیجئے کے قدم چومنے سے پہلے ایک آخری موقع دینا چاہتی ہے ( جو قادری صاحب نے فورا سمیٹ لیا تھا ) لیکن خان صاحب کو اوپر بیان کردہ "قوت ارادی" فی الحا ل روکے ہوۓ ہے ..
چلئے مان لیا کہ خان صاحب نے کامیابی سے ہسپتال ، یونیورسٹی اور ایک آدھ کام (یہاں کام سے مرد ڈالنے والا کام ہرگز نہیں) سر انجام دیا ہے اورآگے بھی ان سے یہ توقع ہے کہ ایسا کوئی کارنامہ سر زد ہو جاۓ لیکن نیا پاکستان ان کے ہاتھوں بن جاۓ کم از کم وہ پاکستان جس کی آس میرے دوست لگاتے بیٹھے ہیں وہ بھی شاہ محمود قریشی ، خورشید قصوری ، شیخ رشید اور اعظم سواتی جیسے مستریوں کی ٹیم کے ساتھ تو میں اپنے دوستوں سے پیشگی معذرت کرتے ہوۓ کہوں گا کہ "اے تسی بھل ای جاؤ" اور یقین جانئیے اس "بھل جان" میں بڑی عافیت پنہاں ہے ....
آج کل عزیزم شیخ رشید صاحب خان صاحب کو ان کی ان انسانی خوبیوں (اور قائدانہ بھی ) سے روشناس کروا رہے ہیں جن کے بارے میں خان صاحب بیچارے باسٹھ سال اور چند مہینوں سے خود بھی بےخبر تھے اور ان میں سے زیادہ تر خوبیوں کا تعلق اوپر بیان کردہ "قوت ارادی" سے ہی ہے گو کہ چند ایک قابل یقین بھی ہیں لیکن اگر ہم ان خوبیوں پر نہ چاہتے ہوۓ بھی یقین کر لیں تو میرا خیال ہے کہ "نیا پاکستان" ایک معمولی سا ثمر ہوگا تو اس سے بہتر ہے کہ ہم اپنی یہ ٹیم برآمد کر کے ایک تو نیا ایشیا یا نیئی دنیا بنا لیں اور دوسرا کچھ ٹکے زرمبادلہ کے نام پربھی کما لیں....

No comments:

Post a Comment