آدھی سیٹیں
الیکشن سے پہلے نواز شریف نہیں آدھی سیٹوں کی پیشکش کی تھی - عمران خان
لو جی یہ کسر باقی تھی - خان صاحب آپ ایک ہی دفعہ سب کچھ بول کیوں نہیں دیتے جو جو کچھ آپ کو نواز شریف نے کہا تھا - ہر روز ایک سانتا بانتا والا مزاحیہ شاک مار مار کر آپ نے لکھنے، پڑھنے اور سننے والوں کو عجیب و غریب جہد مزاح سے روشناس کروایا ہے- مزاح کی اس قسم کو عرف عام میں اذیت ناک مزاح بھی کہا جاتا ہے جس میں قاری، سامع یا ناظر کے ہاں ایک خواہش جنم لیتی ہے جس کو پنجابی میں "کدی توں میرے سامنے ہوندا نہ" کہتے ہیں .
آپ کے تمام چاہنے والے (یہاں چاہنے والوں سے مراد اقتدار میں حصہ ہے) افسوس کر رہے ہونگے کہ آپ نیں یہ حرکت دوسری دفعہ سرزد فرمائی ہے ایک جب ایک انٹرویو میں جنرل مشرف نے انکشاف کیا تھا کہ خان صاحب ١٠٠ سیٹیں مانگ رہے تھے لیکن میں ١٠ سیٹیں دینے پر راضی تھا اور اب دوسری دفعہ میاں صاحب نہیں تو حد ہی کر دی ڈائریکٹ 171 سیٹوں کی پیشکش کر ماری تو یقیناً آپ 342 مانگ رہے ہوں گے (یہاں مجھے مجبوراً 342 لکھنا پر رہا ہے کیونکہ یہ لمٹ ہے)
یہاں میاں صاحب کی معصومیت پر افسوس نہ کرنا زیادتی ہوگی کہ ان کو خیال ہی نہیں آیا کہ اگر سیٹیں آدھی آدھی ہو گیئں تو حکومت بنانے کی دعوت کس کو ملے گی؟ (مہربانی فرما کر یہاں آپ کو فرض کرنا پڑے گا کہ باقی ساری پارٹیوں نے یا تو بائیکاٹ کیا ہوگا یا الیکشن لڑنے کوخان صاحب کا اور میاں صاحب کا ذاتی/گھریلو معاملہ سمجھ کر اخلاقی ذمداری کی چھوٹی سی مثال قائم کی ہوگی)-
چلیں اس بات کو چھوڑ دیتے ہیں پر اتنا تو بتا دیں کہ سیٹیں آدھی آدھی ہونے کے بعد ہر ضمنی الیکشن کے بعد (جو کہ عموماً سال بھر میں 3/4 ہو ہی جاتے ہیں) ایک نئی حکومت بناتے کیا؟
آپ کے پچھلے چند دنوں کے خصوصاً اور ویسے عموماً بیانات پڑھ کر ایسا لگتا ہے کے آپ کی پارٹی کو ایک نہایت زیرک ڈیمیج کنٹرول ٹیم کی اشد ضرورت ہے جو آپ کے فرمودات یا دانش کے موتیوں کو بعد ہر فورم پر "اصل میں عزت مآب چیئرمین صاحب کا مطلب ہر گز یہ نہیں تھا " کثرت سے کرتی یا کہتی پھرے -
ویسے آپس دی گل اے خان صاحب "سودا ماڑا نیئں سی" .....
No comments:
Post a Comment